20 اشعار

موت

Maut

موت

«موت» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کون آوارہ ہواؤں کا سبکبار ہجومآہ احساس کی زنجیر گراں ٹوٹ گئی

اور سرمایۂ انفاس پریشاں نہ رہامیرے سینے میں الجھنے لگی فریاد مری

پھر نگاہوں پہ امنڈ آیا ہے تاریک دھواںٹمٹمانا ہے مرے ساتھ یہ مایوس چراغ

آج ملتا نہیں افسوس پتنگوں کا نشاںمیرے سینے میں الجھنے لگی فریاد مری

ٹوٹ کر رہ گئی انفاس کی زنجیر گراںتوڑ ڈالے گا یہ کمبخت مکاں کی دیوار

اور میں دب کے اسی ڈھیر میں رہ جاؤں گاجی الجھتا ہے مری جان پہ بن جائے گی

تھک گیا آج شکاری کی کماں ٹوٹ گئیلوٹ آیا ہوں بہت دور سے خالی ہاتھوں

آج امید کا دن بیت گیا شام ہوئیمیں نے چاہا بھی مگر تم سے محبت نہ ہوئی

کہ چکے اب تو خدا کے لیے خاموش رہوایک موہوم سی خواہش تھی فلک چھونے کی

زنگ آلود محبت کو تجھے سونپ دیاسرد ہاتھوں سے مری جان مرے ہونٹ نہ سی

گر کبھی لوٹ کے آ جائے وہی سانولی راتخشک آنکھوں میں جھلک آئے نہ بے سود نمی

زلزلہ اف یہ دھماکا یہ مسلسل دستکبے اماں رات کبھی ختم بھی ہوگی کہ نہیں

اف یہ مغموم فضاؤں کا المناک سکوتمیرے سینے میں دبی جاتی ہے آواز مری

تیرگی اف یہ دھندلکا مرے نزدیک نہ آیہ مرے ہاتھ پہ جلتی ہوئی کیا چیز گری

آج اس اشک ندامت کا کوئی مول نہیںآہ احساس کی زنجیر گراں ٹوٹ گئی

اور یہ میری محبت بھی تجھے جو ہے عزیزکل یہ ماضی کے گھنے بوجھ میں دب جائے گی

کون آیا ہے ذرا ایک نظر دیکھ تو لوکیا خبر وقت دبے پاؤں چلا آیا ہو

زلزلہ اف یہ دھماکا یہ مسلسل دستککھٹکھٹاتا ہے کوئی دیر سے دروازے کو

اف یہ مغموم فضاؤں کا المناک سکوتکون آیا ہے ذرا ایک نظر دیکھ تو لو

توڑ ڈالے گا یہ کمبخت مکاں کی دیواراور میں دب کے اسی ڈھیر میں رہ جاؤں گا

— اخترالایمان