13 اشعار

ترغیب اور اس کے بعد

Targhib Aur Us Ke Baad

ترغیب اور اس کے بعد

«ترغیب اور اس کے بعد» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

ترغیب:پھر میں کام میں لگ جاؤں گا آ فرصت ہے پیار کریں

ناگن سی بل کھاتی اٹھ اور میری گود میں آن مچلبھید بھاؤ کی بستی میں کوئی بھید بھاؤ کا نام نہ لے

ہستی پر یوں چھا جا بڑھ کر شرمندہ ہو جائے اجلچھوڑ یہ لاج کا گھونگٹ کب تک رہے گا ان آنکھوں کے ساتھ

چڑھتی رات ہے ڈھلتا سورج کھڑی کھڑی مت پاؤں ملپھر یہ جادو سو جائے گا سمے جو بیتا گہری نیند

جو کچھ ہے انمول ہے اب تک ایک اک لمحہ ایک اک پلبن چھوئی مٹی کی خوشبو اس کا سوندھا سوندھا پن

سب کچھ چھن جائے گا اک دن اب بھی وقت ہے دیکھ سنبھلنرم رگوں میں میٹھی میٹھی ٹیس جو یہ اٹھتی ہے آج

بڑھتی موج کا ریلا ہے اک، ٹیس نہ اٹھے گی کلمست رسیلی آنکھوں سے یہ چھلکی چھلکی سی اک شے

جس نے آج اپنایا اس کو سمجھو اس کے کار سپھلمیں تیرے شعلوں سے کھیلوں تو بھی میری آگ سے کھیل

میں بھی تیری نیند چراؤں تو بھی میری نیندیں چھلنرم ہوا کے جھونکوں ہی سے کھلتی ہے پھولوں کی آنکھ

ورنہ برسوں ساتھ رہے ہیں ٹھہرا پانی بند کنول!اس کے بعد:

بھیگی رات کا نشہ ٹوٹا ڈوب گیا ہے چڑھتا چاندتھکے تھکے ہیں اعضا سارے اور ہوئیں پلکیں بوجھل

شبنم کا رس پی گئیں کرنیں دن کا رنگ چمک اٹھاگونج ہے بھنوروں کی کانوں میں پر ہیں آنکھوں سے اوجھل

حسن اور عشق کی اس دنیا میں کس نے کس کا ساتھ دیامیں اپنے رستے جاتا ہوں اور تو اپنی ڈگر پر چل!

— اخترالایمان