14 اشعار

زندگی کے دروازے پر

Zindagi Ke Darwaze Par

زندگی کے دروازے پر

«زندگی کے دروازے پر» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

پا برہنہ و سراسیمہ سا اک جم غفیراپنے ہاتھوں میں لیے مشعل بے شعلہ و دود

مضطرب ہو کے گھروندوں سے نکل آیا ہےجیسے اب توڑ ہی ڈالے گا یہ برسوں کا جمود

ان پپوٹوں میں یہ پتھرائی ہوئی سی آنکھیںجن میں فردا کا کوئی خواب اجاگر ہی نہیں

کیسے ڈھونڈیں گی در زیست کہاں ڈھونڈیں گیان کو وہ تشنگیٔ شوق میسر ہی نہیں

جیسے صدیوں کے چٹانوں پہ تراشے ہوئے بتایک دیوانے مصور کی طبیعت کا ابال

ناچتے ناچتے غاروں سے نکل آئے ہوںاور واپس انہیں غاروں میں ہو جانے کا خیال

زندگی اپنے دریچوں میں ہے مشتاق ابھیاور یہ رقص طلسمانہ کے رنگیں سائے

اس کی نظروں کو دیے جاتے ہیں پیہم دھوکےجیسے بس آنکھ جھپکنے میں وہ اڑ کر آئے

شہ پر موت کسی غول بیاباں کی طرحقہقہے بھرتا ہے خاموش فضاؤں میں صدا

کانپتے کانپتے اک بار سمٹ جاتی ہےایک تاریک سا پردہ یوں ہی آویزاں رہا

کوئی دروازے پہ دستک ہے نہ قدموں کا نشاںچند پر ہول سے اسرار تہ سایۂ در

خود ہی سرگوشیاں کرتے ہیں کوئی جیسے کہےپھر پلٹ آئے یہ کم بخت وہی شام و سحر

ناچتا رہتا ہے دروازے کے باہر یہ ہجوماپنے ہاتھوں میں لیے مشعل بے شعلہ و دود

زندگی اپنے دریچوں میں ہے مشتاق ابھیکیا خبر توڑ ہی دے بڑھ کے کوئی قفل جمود

— اخترالایمان