8 اشعار

بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات

Baat Karne Mein Toh Jaati Hai Mulaqat Ki Raat

بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات

«بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی راتکیا بری بات ہے رہ جاؤ یہیں رات کی رات

ذرے افشاں کے نہیں کرمک شب تاب سے کمہے وہ زلف عرق آلود کہ برسات کی رات

زاہد اس زلف میں پھنس جائے تو اتنا پوچھوںکہیے کس طرح کٹی قبلۂ حاجات کی رات

شام سے صبح تلک چلتے ہیں جام مے عیشخوب ہوتی ہے بسر اہل خرابات کی رات

وصل چاہا شب معراج تو یہ عذر کیاہے یہ اللہ و پیمبر کی ملاقات کی رات

ہم مسافر ہیں یہ دنیا ہے حقیقت میں سراہے توقف ہمیں اس جا تو فقط رات کی رات

چل کے اب سو رہو باتیں نہ بناؤ صاحبوصل کی شب ہے نہیں حرف حکایات کی رات

لیلۃ القدر ہے وصلت کی دعا مانگ امیرؔاس سے بہتر ہے کہاں کوئی مناجات کی رات

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں