میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
کلام: امیر مینائی
میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہےزمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے
رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہےمکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہےزمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے
رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہےمکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے
بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی راتکیا بری بات ہے رہ جاؤ یہیں رات کی رات
ذرے افشاں کے نہیں کرمک شب تاب سے کمہے وہ زلف عرق آلود کہ برسات کی رات