7 اشعار

سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے

Sar-e-Rah-e-Adam Gor-e-Gharibaan Turfa Basti Hai

سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے

«سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہےکہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے

تری مسجد میں واعظ، خاص ہیں اوقات رحمت کےہمارے میکدے میں رات دن رحمت برستی ہے

خمارِ نشّہ سے نگاہیں ان کی کہتی ہیںیہاں کیا کام تیرا، یہ تو متوالوں کی بستی ہے

جوانی لے گئی ساتھ اپنے سارا عیش مستوں کاصراحی ہے نہ شیشہ ہے نہ ساغر ہے نہ مستی ہے

ہمارے گھر میں جس دن ہوتی ہے اس حور کی آمدچھپر کھٹ کو پری آ کر پری خانے سے کستی ہے

چلے نالے ہمارے یہ زبان حال سے کہہ کرٹھہر جانا پہنچ کر عرش پر، ہمّت کی پستی ہے

امیر اس راستے سے جو گزرتے ہیں وہ لٹتے ہیںمحلہ ہے حسینوں کا، کہ قزاقوں کی بستی ہے؟

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں