سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
کلام: امیر مینائی
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہنکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہحیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہنکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہحیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
مجھ مست کو مے کی بو بہت ہےدیوانے کو ایک ہو بہت ہے
موتی کی طرح جو ہو خدادادتھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے