یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہے
کلام: امیر مینائی
یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہےجو کچھ نہاں تھا تخم میں، پیدا شجر میں ہے
ہر دم جو خونِ تازہ مری چشمِ تر میں ہےناسور دل میں ہے کہ الٰہی جگر میں ہے
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہےجو کچھ نہاں تھا تخم میں، پیدا شجر میں ہے
ہر دم جو خونِ تازہ مری چشمِ تر میں ہےناسور دل میں ہے کہ الٰہی جگر میں ہے
سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہےکہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے
تری مسجد میں واعظ، خاص ہیں اوقات رحمت کےہمارے میکدے میں رات دن رحمت برستی ہے