اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
کلام: امیر مینائی
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں
ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہاکچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں
ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہاکچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں
دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئےتیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے
بادشاہوں کا ہے دربار در پیر مغاںسیکڑوں جاتے گئے سیکڑوں آتے آئے