9 اشعار

آیئندگاں کی اداسی میں

Aayindagaan ki Udaasi mein

آیئندگاں کی اداسی میں

«آیئندگاں کی اداسی میں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

آیئندگاں کی اداسی میںجب دنیا میرے دکھ بٹانے آئی

میرے سارے دکھ چرا لیے گئے تھےبھری بہار میں میرے آنسوؤں کے بیج جلائے گئے ہیں

آج دیر بعد نئی محبت کو منسوخ کر کےپہلی تنہائی سے لپٹ کر سونا اچھا لگا ہے

آئندگاں کی اداسی لپیٹ کرایک پرانی محبت کا پرسا وصول کرتے ہوئے بھی

دل نہیں بھراجذبوں کی کتر بیونت اور خالی لفظوں میں دکھوں کے پیوند لگاتے

تھک گیا ہوںاسی ادھیڑ بن میں

خود کو سینت سینت کر رکھتے ہوئےاپنے پیرہن میں

ایک خواب تک سستانے کی فرصت نہیںسو نئے دکھ کمانے کی عجلت میں

تمہارا سواگت ہے دوست!!!

— انجم سلیمی