5 اشعار

خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتا کرنا ہے

Khud se bahar bhi mujhe apna pata karna hai

خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتا کرنا ہے

«خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتا کرنا ہے» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتا کرنا ہےمیں نے اب سوچ لیا سب سے ملا کرنا ہے

مجھ کو جانے دے مری پہلی محبت کی طرفمیں نے اک شخص کو وعدے سے رہا کرنا ہے

جی بہت خوش ہے آج اس سے ملاقات ہوئیکل کو جس کے لیے افسردہ ہوا کرنا ہے

اتنا بے تاب نہ ہو مجھ سے بچھڑنے کے لیےتجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے

مجھ سے کھل پائیں اگر اپنی زباں کی گرہیںخود سے ملنا ہے، کبھی اپنا گلہ کرنا ہے

— انجم سلیمی