11 اشعار

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

Yeh mohabbat ka jo ambaar pada hai mujh mein

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

«یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میںاس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں

چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلاایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں

میری پیشانی پہ اس بل کی جگہ ہے ہی نہیںصبر کے ساتھ جو ہموار پڑا ہے مجھ میں

ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہےدل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے مجھ میں

میرا دامن بھی کوئی دست ہوس کھینچتا ہےایک میرا بھی خریدار پڑا ہے مجھ میں

کس نے آباد کیا ہے مری ویرانی کوعشق نے؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں

میرے اکسانے پہ میں نے مجھے برباد کیامیں نہیں میرا گنہ گار پڑا ہے مجھ میں

مشورہ لینے کی نوبت ہی نہیں آ پاتیایک سے ایک سمجھ دار پڑا ہے مجھ میں

اے برابر سے گزرتے ہوئے دکھ تھم تو سہیتجھ پہ رونے کو عزا دار پڑا ہے مجھ میں

میرا ہونا مرے ہونے کی گواہی تو نہیںمیرے آگے مرا انکار پڑا ہے مجھ میں

بھوک ایسی ہے کہ میں خود کو بھی کھا سکتا ہوںکیسا یہ قحط لگاتار پڑا ہے مجھ میں

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں