5 اشعار

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں

Zahoor-e-kashf-o-karamat mein pada hua hoon

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں

«ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوںابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں

مجھے یقیں ہی نہیں آ رہا کہ یہ میں ہوںعجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں

گزر رہی ہے مجھے روندتی ہوئی دنیاقدیم و کہنہ روایات میں پڑا ہوا ہوں

بچاؤ کا کوئی رستہ نہیں بچا مجھ میںمیں اپنے خانۂ شہ مات میں پڑا ہوا ہوں

میں اپنے دل پہ بہت ظلم کرنے والا تھاسو اب جہان مکافات میں پڑا ہوا ہوں

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں