6 اشعار

فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں

Falak nizaad sahi sar-nigoon zameen pe tha main

فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں

«فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میںجبین خاک پہ تھی اور مری جبیں پہ تھا میں

گندھی پڑی تھی مری خاک خال و خد کے بغیرابھی ہمکتا ہوا چاک اولیں پہ تھا میں

یہ تب کی بات ہے جب کن نہیں کہا گیا تھاکہیں کہیں پہ خدا تھا کہیں کہیں پہ تھا میں

نیا نیا میں نکالا ہوا تھا جنت سےزمیں بنائی گئی جن دنوں یہیں پہ تھا میں

خدا کا حکم بجا بد گمانی اپنی جگہغلط نہ تھا مرا انکار اس یقیں پہ تھا میں

خدا کے جھگڑے میں آخر دماغ ہار گیاکہ دل ثبات میں تھا اور نہیں نہیں پہ تھا میں

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں