6 اشعار

ہنسی پرانی ہو سکتی ہے ، آنسو تازہ رہتا ہے

Hansi purani ho sakti hai, aansoo taza rehta hai

ہنسی پرانی ہو سکتی ہے ، آنسو تازہ رہتا ہے

«ہنسی پرانی ہو سکتی ہے ، آنسو تازہ رہتا ہے» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

ہنسی پرانی ہو سکتی ہے ، آنسو تازہ رہتا ہےدکھ سہنے سے زندہ ہونے کا اندازہ رہتا ہے

ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے ٹوٹے کانچ لگانے کاان دیواروں کے اندر بھی اک دروازہ رہتا ہے

کان لگائے رہتا ہوں اک بھید بھری سرگوشی پرورنہ روز تعاقب میں کوئی آوازہ رہتا ہے

دو جسموں کا لمس پڑا ہے اک کروٹ کی دوری پرلا حاصل کی مد میں ابھی کوئی خمیازہ رہتا ہے

تم پر جچتی ہے زیبائش،صاف گھروں میں رہتے ہوہم آئینہ ساز ہیں ، ہم پر دھول کا غازہ رہتا ہے

دل میں نومولود تمنا جتنی قبر کی جگہ نہیںکاندھوں پر ہر روز کسی خواہش کا جنازہ رہتا ہے

— انجم سلیمی