7 اشعار

سہل کب تھا ، جو کام کر لیا ہے

Sehl kab tha, jo kaam kar liya hai

سہل کب تھا ، جو کام کر لیا ہے

«سہل کب تھا ، جو کام کر لیا ہے» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

سہل کب تھا ، جو کام کر لیا ہےخود کو ، خود پر حرام کرلیا ہے

دشت میں خاک بھی اڑا لی تھیباغ میں بھی خرام کر لیا ہے

دل پسیجے تو کوئی بات بنےویسے پتھر تو رام کر لیا ہے

کچھ تو دنیا بھی دل کو نرم کرےآگے بڑھ کر سلام کر لیا ہے

شہر بھر کی زباں پہ رہتا ہوںمیں نے اتنا تو نام کر لیا ہے

اک کہانی کو موڑ دیتے ہوئےاپنا قصہ تمام کر لیا ہے

بے زبانی کا دکھ سمجھتا ہوںخامشی سے کلام کر لیا ہے

— انجم سلیمی