12 اشعار

ہم بےوطن خوابوں کے جولاہے ہیں

Hum bewatan khwabon ke jolāhe hain

ہم بےوطن خوابوں کے جولاہے ہیں

«ہم بےوطن خوابوں کے جولاہے ہیں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

ہم بےوطن خوابوں کے جولاہے ہیںبہت سی آوازیں جمع کر کے

ایک چیخ بنائی جاسکتی ہے.......بہت تھوڑے لفظوں سے

ایک باغی نظم بنی جاسکتی ہےلیکن

زندہ قبرستان میں ایک نظم کا کتبہ کافی نہیںقبریں دم سادھے پڑی ہیں

ہماری مائیں مردہ بچوں کو جنم دے رہی ہیںلاشیں شناخت کرتے ہجوم کو اپنا چہرہ یاد نہیں آتا

ہم زندگی سے صحبت کرنے نکلے تھےاور زندگی نے ہمارے خصیوں سے کینچے بنالئیے

ہمارے لہو میں چیونٹیاں رینگتی ہیںاور ہم اپنی مرضی سے کھجلی تک نہیں کرسکتے

قطار میں کھڑے کھڑے ہم دوسروں سے مختلف کیسے ہو گئے!!!زندگی میزان ہوتی تو ہم اس کے پلڑے اپنے وجودوں سے بھر دیتے

مگر کیا کریں کہ ہم خود اپنی نظروں میں بہت بےوزن ہیںہتھیلیوں میں سوراخ ہوں تو آنکھیں کہاں سنبھالیں

ہم نے صرف چہرے نبھائے، رشتے نہیںپیاسی زمینوں میں آنسو کاشت کرکے بھی بوند بھر ہریالی نہیں کھلی

ہم ساری عمر اپنے خوابوں کے جولاہے بنے رہےاور اپنے بچوں کے لیے ایک سایہ دار پرچم نہ بن سکے

ہماری مٹی محض مٹی رہیکبھی وطن نہ بن پائی.....

— انجم سلیمی