5 اشعار

جس تمازت کی طلب دل میں ہے۔کیا سر میں بھی ہے

Jis tamazat ki talab dil mein hai. Kya sar mein bhi hai

جس تمازت کی طلب دل میں ہے۔کیا سر میں بھی ہے

«جس تمازت کی طلب دل میں ہے۔کیا سر میں بھی ہے» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

جس تمازت کی طلب دل میں ہے۔کیا سر میں بھی ہےورنہ کچھ دھوپ تو گلیوں میں بھی ہے گھر میں بھی ہے

اک سلگتی ہوئی آواز نے چونکایا مُجھےدشت کا ایک کنارہ تو سمندر میں بھی ہے

بھوکے حشرات نے کیا حشر کیا ہے میرامیں کوئی رزق نہیں تھا کہ جو پتھر میں بھی ہے

ناگواری میں پڑی روح کی سلوٹ ہی نہ ہوشب جو پیشانی پہ تھی ۔صبح جو بستر میں بھی ہے

وہ اداسی جو نمو پاتی رہی ہے مجھ میںاس کی تھوڑی سی جھلک ۔شام کے منظر میں بھی ہے

— انجم سلیمی