5 اشعار

قدم قدم سامنا ہوا شرمساریوں سے

Qadam qadam saamna hua sharmsaariyon se

قدم قدم سامنا ہوا شرمساریوں سے

«قدم قدم سامنا ہوا شرمساریوں سے» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

قدم قدم سامنا ہوا شرمساریوں سےگزر کے آیا ہوں ذات کی راہ داریوں سے

ملال ہی جب نہیں،تو کوئی گلہ بھی کیساتری ہنرمندیوں ، سلیقہ شعاریوں سے

ہیں خواب بھی اب پناہ دینے سے مجھ کو قاصرمیں نیند میں ڈر رہا ہوں اپنے شکاریوں سے

کسی طرح بھر نہیں رہے ہیں طلب کے کاسےدعاؤں کی بھیک مانگتے ہیں بھکاریوں سے

کہاں رکے گی یہ سست رو زندگی کی گاڑیمیں سخت بیزار ،ساتھ بیٹھی سواریوں سے

— انجم سلیمی