8 اشعار

کاغذ تھا میں دیے پہ مجھے رکھ دیا گیا

Kaghaz tha main diye pe mujhe rakh diya gaya

کاغذ تھا میں دیے پہ مجھے رکھ دیا گیا

«کاغذ تھا میں دیے پہ مجھے رکھ دیا گیا» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کاغذ تھا میں دیے پہ مجھے رکھ دیا گیااک اور مرتبے پہ مجھے رکھ دیا گیا

اک بے بدن کا عکس بنایا گیا ہوں میںبے آب آئینے پہ مجھے رکھ دیا گیا

کچھ تو کھنچی کھنچی سی تھی ساعت وصال کیکچھ یوں بھی فاصلے پہ مجھے رکھ دیا گیا

منہ مانگے دام دے کے خریدا اور اس کے بعداک خاص زاویے پہ مجھے رکھ دیا گیا

کل رات مجھ کو چوری کیا جا رہا تھا یاراور میرے جاگنے پہ مجھے رکھ دیا گیا

اچھا بھلا پڑا تھا میں اپنے وجود میںدنیا کے راستے پہ مجھے رکھ دیا گیا

پہلے تو میری مٹی سے مجھ کو کیا چراغپھر میرے مقبرے پہ مجھے رکھ دیا گیا

انجمؔ ہوا کے زور پہ جانا ہے اس طرفپانی کے بلبلے پہ مجھے رکھ دیا گیا

— انجم سلیمی