29 اشعار

مری اک اپنی دنیا تھی

Meri ek apni dunya thi

مری اک اپنی دنیا تھی

«مری اک اپنی دنیا تھی» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

مری اک اپنی دنیا تھیکسی ہموار بستر پر

میں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوںمُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں

مُجھے اک خواب میں واپس پلٹنا ہےعجب اک خواب تھا وہ

مُجھے جس کے لئے سونا نہ پڑتا تھامیں سارا سارا دن اس خواب کی دیوار سے لپٹا پڑا رہتا

جہاں ہر وقت گھیرے میں لئے رکھتی تھیمیری موت کی خوشبو

وہاں اک باغ تازہ تھاجہاں میں منہ اندھیرے سیر کو جاتے ہوئے ڈرتا نہیں تھا

پری زادوں کی صحبت میںمُجھے اس خواب سے باہر نکلنے کا خیال آتا نہیں تھا

اگرچہ واہموں کی زرد بیلوں نے مُجھے ڈھانپا ہوا تھامگر پھر بھی بہت کچھ دیکھنے کو تھا

مگر دیکھا نہ جاتا تھاپھٹی رہتی تھیں آنکھیں

اور آنکھوں میں مرے چاروں طرف میں تھایہ کیسی خواب کی حیرت سرا تھی

جہاں چھوٹی بڑی ہر اک جسامت میںمرے چاروں طرف میں تھا

بہت دن تک میں اپنے سکر میںاپنی طرف اور اپنے ہی اطراف گھن چکر بنا پھرتا رہا

میں جیسے آپ ہی اپنے تعاقب میںخود اپنی سمت بڑھتا آرہا تھا

میں خود کو چھو رہا تھا خود __خود سے مل رہا تھا میں

عجب مستی کا عالم تھا ،قدم سیدھے نہ پڑتے تھےزمیں لٹو کی صورت تھی مرے سر پر

عجب چکر تھا میرے چار جانبمیں اس چکر کی الٹی سمت گھوما

کچھ قدم چلتا رہا اور تیز تر چلنے کی کوشش میںمیں اپنے جذب میں سرشار

اس چکر سے ٹکرایا تو چکرایا ہوااسں خواب سے باہر نکل آیا

میں گھبرایا ہوا اوپر ہی اوپر گررہا تھامُجھے آواز دی میں نے

میں خود کو تھامنے کی کوشش ناکام میں آگے بڑھااور منہ کے بل آکر گرا اس آسماں کے نیلے اور ہموار بستر پر

سو اب اس آسماں کے نیلے اور ہموار بستر پرمیں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوں

نیلے آسماں کا فرش کالا ہورہا ہےمرے سر پر کھڑی ہے شام

پھٹا جاتا ہے سر ۔۔۔۔۔زمیں سردرد کی ٹکیہ نہیں ہے

جسے حلقوم میں رکھ کر نگلنے کے لئے دو گھونٹ کافی ہوںسمندر چاہئیں مجھ کو ۔۔۔۔۔۔۔

سمندر اوک میں بھرتے نہیں ہیںکوئی برتن نہیں ایسا

میں جس برتن میں اپنی پیاس بھر لوںبس اک دل ہے

مگر دل بھی بھرا بیٹھا ہے خالی آسماں سےمُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں

میں اپنے خواب میں واپس پلٹنا چاہتا ہوںمری اک اپنی دنیا ہے

وہی دنیا ۔۔۔۔۔۔جو دنیا مجھ سے خالی ہوگئی ہے

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں