6 اشعار

خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے

Khaak chhanni na kisi dasht mein wahshat ki hai

خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے

«خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہےمیں نے اک شخص سے اجرت پہ محبت کی ہے

خود کو دھتکار دیا میں نے تو اس دنیا نےمیری اوقات سے بڑھ کر مری عزت کی ہے

جی میں آتا ہے مری مجھ سے ملاقات نہ ہوبات ملنے کی نہیں بات طبیعت کی ہے

اب بھی تھوڑی سی مرے دل میں پڑی ہے شایدزرد سی دھوپ جو دیوار سے رخصت کی ہے

آج جی بھر کے تجھے دیکھا تو محسوس ہواآنکھ نے سورۂ یوسف کی تلاوت کی ہے

حال پوچھا ہے مرا پونچھے ہیں آنسو میرےشکریہ تم نے مرے درد میں شرکت کی ہے

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں