7 اشعار

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں

Umar ki saari thakan laad ke ghar jata hoon

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں

«عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوںرات بستر پہ میں سوتا نہیں مر جاتا ہوں

اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میںاس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں

مجھ سے پوچھے تو سہی آئینہ خانہ میراخال و خد لے کے میں ہم راہ کدھر جاتا ہوں

دل ٹھہر جاتا ہے بھولی ہوئی منزل میں کہیںمیں کسی دوسرے رستے سے گزر جاتا ہوں

سہما رہتا ہوں بہت حلقۂ احباب میں میںچار دیوار میں آتے ہی بکھر جاتا ہوں

میرے آنے کی خبر صرف دیا رکھتا ہےمیں ہواؤں کی طرح ہو کے گزر جاتا ہوں

میں نے جو اپنے خلاف آپ گواہی دی ہےوہ ترے حق میں نہیں ہے تو مکر جاتا ہوں

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں