6 اشعار

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا

Is se aage toh bas la makan reh gaya

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا

«اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیایہ سفر بھی مرا رائیگاں رہ گیا

ہو گئے اپنے جسموں سے بھی بے نیازاور پھر بھی کوئی درمیاں رہ گیا

راکھ پوروں سے جھڑتی گئی عمر کیسانس کی نالیوں میں دھواں رہ گیا

اب تو رستہ بتانے پہ مامور ہوںبے ہدف تیر تھا بے کماں رہ گیا

جب پلٹ ہی چلے ہو اے دیدہ ورومجھ کو بھی دیکھنا میں کہاں رہ گیا

مٹ گیا ہوں کسی اور کی قبر میںمیرا کتبہ کہیں بے نشاں رہ گیا

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں