15 اشعار

مہاجر پرندوں کا سواگت

Muhajir parindon ka swagath

مہاجر پرندوں کا سواگت

«مہاجر پرندوں کا سواگت» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

دنیامیں اپنا سارا حسن

تیری ہتھیلی پر رکھ دیتا ہوںاور تو اپنا سارا زہر

میرے اندر انڈیل دیتی ہےجانتی ہے ناں

میں زیادہ دیر خالی نہیں رہ سکتامیری گونج مجھے اپنی لپیٹ میں لیے رکھتی ہے

سہما پڑا رہتا ہوں دیر دیر تک اپنے ہی اندراپنے خالی پن کے سناٹے میں

یا پھر دھما چوکڑی کرتی ان کہی نظموں کے شور میںچپ چاپ بیٹھ رہتا ہوں اپنے ساتھ

کیا اذیت ہے؟اپنے آپ سے ملتے ہوئے

خود کلامی بھی نہیں ہو پاتی مجھ سے!''بولتا ہوں تو لفظ زمیں پر گرتے ہیں''

ریزہ ریزہ حرف چن کر آنکھوں سے چومتا ہوںکہ اپنی سمت لوٹتے سمے

میں انہیں روند کر نہیں گزر سکتاسو، کہر کی دھند میں گھرے ہوئے

مہاجر پرندوں کے پر اٹھا لاتا ہوںاپنی کتاب میں رکھنے کے لیے

تب اپنا سونا پن اچھا لگنے لگتا ہےجب لفظ پرندوں کی طرح میرے آس پاس

اڑتے پھرتے ہیںان کے رزق سے بھرا رہتا ہے میرا باطن

وہ اپنی ننھی ننھی چونچیں کھول کرمیرے وجود سے اپنے معنی چگتے ہیں

انہی کی چہکار لے کے آتا ہوںمیں تیرے لیے میری پیاری دنیا!!

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں