10 اشعار

پرسہ

Pursaa

پرسہ

«پرسہ» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

پرسہبستر پر مٹھی بھر ہڈیاں رہ گئیں

تو مسیحا نے بتایااب مٹی پر زیادہ حق مٹی کا ہے

سو ہم نے مٹی پر مٹی لیپ کر اس پر ایک چراغکا کتبہ لکھا

رات!!! صبح تک ہوا پھونکتی پھرتی تھیاور ستارے ہماری ہتھیلیوں پر پڑے میلے

ہوتے رہےآنسوؤں کو صبر کا کفن کہاں سے دیں

پھول اپنی خوشبو چھوڑتا ہے ہنسی نہیں چھوڑتاغم زدو!!! چراغ آنکھوں کو سونپ دو

کہ آنسو صرف چراغ روتا ہےجس ہاتھ پر چراغ دھرا تھا

وہ ہاتھ ہماری چھت تھادر و دیوار پر چھت نہ رہے

تو بادل بھی حوصلہ ہار دیتے ہیںتمہارے آسمان پر روتے ہوئے خیال آیا

میرا آسمان بھی کتنا بوڑھا ہو گیا ہےکچھ آنسو بچا لے میرے دوست!

— انجم سلیمی