5 اشعار

ٹھیک نہ ہوں جب تک اندازے اندر سے

Theek na hoon jab tak andaaze andar se

ٹھیک نہ ہوں جب تک اندازے اندر سے

«ٹھیک نہ ہوں جب تک اندازے اندر سے» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

ٹھیک نہ ہوں جب تک اندازے اندر سےبھرنا پڑتے ہیں خمیازے اندر سے

دستک سے دیواریں جھڑنے لگتی تھیںکھول دئیے ہیں سب دروازے اندر سے

بہت غنیمت ہے اس ھو کے عالم میںاٹھتے رہتے ہیں آوازے اندر سے

پت جھڑ کا موسم بیکار نہیں جاتازخم نکل آتے ہیں تازے اندر سے

ناک اور بازو کٹے پڑے ہیں گلیوں میںاٹھوائے گا کون جنازے اندر سے

— انجم سلیمی