6 اشعار

سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں

Sulag sulag ke jo khud ko dhuaan banata hoon

سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں

«سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوںزمیں کو اپنے تئیں آسماں بناتا ہوں

فقط دعا سے کہاں بال و پر نکلتے ہیںمیں چھت پہ بیٹھا ہوا سیڑھیاں بناتا ہوں

بندھے بندھائے یقیں پر خدا نہیں کھلتامیں شک کے بیج سے کیا کیا گماں بناتا ہوں

میں دائرے کی طرح بیٹھتا ہوں چاروں طرفجو منتشر ہیں انہیں درمیاں بناتا ہوں

مرے وجود سے ہوتی نہیں گھٹن پیدامیں گفتگو میں نئی کھڑکیاں بناتا ہوں

میں صرف لفظوں میں بینائی ہی نہیں بھرتاسماعتوں کے لیے بھی زباں بناتا ہوں

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں