8 اشعار

آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ

Aah bargah-e-husn mein jalwon ka asar dekh

آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ

«آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھحد سے نہ گزر ضبط میں اے ضبط نظر دیکھ

مت پوچھ کہ کیا گزری دل شعلہ صفت پراس دست حنائی میں مرا دامن تر دیکھ

تو اس کا تمنائی ہے مت ڈر دل ناداںامید نہیں پھر بھی وہ کہتا ہے تو مر دیکھ

یہ شہر ہے یا خیمہ ہے دشمن کا سپہ کاآواز کے زخموں سے لہو ہے مرا سر دیکھ

کیوں بحر خموشی میں ہے تو مثل صدا تنگحسرت کوئی باقی ہے تو اک بار ابھر دیکھ

شاید ترے حصے میں ہو موتی کا مقدراے قطرۂ جاں آج سمندر میں اتر دیکھ

کیوں پاؤں پسارے تو پڑا ہے سر راہےکیا سخت سفر ہے ذرا سائے سے ادھر دیکھ

شاید ہو ادھر عرشؔ کوئی چشمۂ حیواںاک بار تو ہستی کے بیاباں سے گزر دیکھ

— عرش صدیقی