7 اشعار

وہ جو اب دل کی رہ گزر میں نہیں

Woh jo ab dil ki rahguzar mein nahin

وہ جو اب دل کی رہ گزر میں نہیں

«وہ جو اب دل کی رہ گزر میں نہیں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

وہ جو اب دل کی رہ گزر میں نہیںوقت کہتا ہے میں سفر میں نہیں

میری دیوانگی بھی ختم ہوئیتیرے جلوے بھی اب نظر میں نہیں

کیا غم یار کیا خیال بہارآج سودا بھی کوئی سر میں نہیں

ہم سا کیا ہوگا کوئی بے ساماںہائے نام خدا بھی گھر میں نہیں

وجہ رسوائی ہے یہاں ہر باتعیب میں کیا ہے جو ہنر میں نہیں

میں ہوں تیرے جمال سے سوزاںاپنا کچھ تابش قمر میں نہیں

ایک دیوار تیرگی کے سواکوئی منظر بھی عرشؔ در میں نہیں

— عرش صدیقی