6 اشعار

گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں

Gulshan ka sana-khwan hoon bayabaan mein pada hoon

گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں

«گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوںطائر ہوں مگر گوشۂ زنداں میں پڑا ہوں

ہوں منتظر قافلۂ مصر تمنایوسف ہوں ابھی چاہ بیاباں میں پڑا ہوں

ملتا نہیں بازار سے پیراہن یوسفیعقوب ہوں تاریکئ کنعاں میں پڑا ہوں

آنکھوں پہ ہے اک منظر کم دیدہ کا پردہمیں کب سے تری یاد کے زنداں میں پڑا ہوں

تو ہے کہ مجھے دور سے کرتا ہے اشارےمیں ہوں کہ رہ حسن گریزاں میں پڑا ہوں

مانا کہ نہیں عرشؔ کوئی گوش بر آوازکیا کم ہے کہ میں کوچۂ جاناں میں پڑا ہوں

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں