7 اشعار

آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا

Aakhir hum ne taur purana chhod diya

آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا

«آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیااس کی گلی میں آنا جانا چھوڑ دیا

منظر بھی سب بانجھ رتوں میں ڈوب گئےآنکھوں پر بھی پہرہ بٹھانا چھوڑ دیا

ختم ہوئی شوریدہ سری لب سل سے گئےمحفل محفل ہنسنا ہنسانا چھوڑ دیا

نظروں پر کھڑکی کے پٹ دیوار کیےدروازوں میں اس کا سجانا چھوڑ دیا

جب سے ہوا احساس دیا ہونے کا ہمیںتیز ہوا کے سامنے جانا چھوڑ دیا

ڈر تھا کہیں کچھ اپنے لیے بھی مانگ نہ لیںہم نے دعا کو ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیا

عرشؔ ہوا اک لفظ جو منہا یادوں سےہم نے گھر کو قفل لگانا چھوڑ دیا

— عرش صدیقی