6 اشعار

وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا

Wo jis ki daastaan phaili dil deewana mera tha

وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا

«وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھازبانیں دشمنوں کی تھیں مگر افسانہ میرا تھا

تڑپتا ہوں کہ اک ساغر کسی حاتم سے مل جائےزوال آسماں دیکھو کبھی مے خانہ میرا تھا

بلا کی خامشی طاری تھی ہر سو تیری ہیبت سےسر محفل جو گونجا نعرۂ مستانہ میرا تھا

کٹے یوں تو ہزاروں سر وفا کی کربلاؤں میںترے نیزے پہ جو ابھرا سر شاہانہ میرا تھا

فقیہ شہر کو سمجھو کہ ہم پکڑے گئے ناحقشرابیں سب اسی کی تھیں بس اک پیمانہ میرا تھا

بنا ہے عرشؔ وہ منصف تو پھر یہ بھی کبھی دیکھےہوا ہے بند جو مجھ پر وہی ویرانہ میرا تھا

— عرش صدیقی