12 اشعار

وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا

Waqt ka jhonka jo sab patte uda kar le gaya

وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا

«وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیاکیوں نہ مجھ کو بھی ترے در سے اٹھا کر لے گیا

رات اپنے چاہنے والوں پہ تھا وہ مہرباںمیں نہ جاتا تھا مگر وہ مجھ کو آ کر لے گیا

ایک سیل بے اماں جو عاصیوں کو تھا سزانیک لوگوں کے گھروں کو بھی بہا کر لے گیا

میں نے دروازہ نہ رکھا تھا کہ ڈرتا تھا مگرگھر کا سرمایہ وہ دیواریں گرا کر لے گیا

وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئےاپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا

میں جسے برسوں کی چاہت سے نہ حاصل کر سکاایک ہم سایہ اسے کل ورغلا کر لے گیا

سج رہی تھی جنس جو بازار میں اک عمر سےکل اسے اک شخص پردوں میں چھپا کر لے گیا

میں کھڑا فٹ پاتھ پر کرتا رہا رکشا تلاشمیرا دشمن اس کو موٹر میں بٹھا کر لے گیا

سو رہا ہوں میں لیے خالی لفافہ ہاتھ میںاس میں جو مضموں تھا وہ قاصد چرا کر لے گیا

رقص کے وقفے میں جب کرنے کو تھا میں عرض شوقکوئی اس کو میرے پہلو سے اٹھا کر لے گیا

اے عذاب دوستی مجھ کو بتا میرے سواکون تھا جو تجھ کو سینے سے لگا کر لے گیا

مہرباں کیسے کہوں میں عرشؔ اس بے درد کونور آنکھوں کا جو اک جلوہ دکھا کر لے گیا

— عرش صدیقی