9 اشعار

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا

Aankhon mein kahin us ke bhi toofan to nahin tha

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا

«آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھاوہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا

کیوں مجھ سے نہ کی اس نے سر بزم کوئی باتمیں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا

ہاں حرف تسلی کے لیے تھا میں پریشاںپہلو میں مرے دل تھا کہستاں تو نہیں تھا

کیوں راستہ دیکھا کیا اس کا میں سر شامبے درد کا مجھ سے کوئی پیماں تو نہیں تھا

جلوہ تھا ترا آگ میں ہر لحظہ ہویداورنہ مجھے جل مرنے کا ارماں تو نہیں تھا

تھا دل بھی کبھی شہر تمنا سے مماثلیہ قریہ ہمیشہ سے بیاباں تو نہیں تھا

طوفان الم کیوں مجھے ساحل پہ اتارامیں شور تلاطم سے ہراساں تو نہیں تھا

رکھا تھا چھپا کر جسے الفاظ میں میں نےپردے میں سخن کے بھی وہ عریاں تو نہیں تھا

کہتے ہیں کہ ہے عرشؔ نگوں پائے نبیؐ پرایسا وہ کوئی صاحب ایماں تو نہیں تھا

— عرش صدیقی