6 اشعار

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں

Main alam-e-imkaa'n mein jise dhoond raha hoon

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں

«میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوںوہ پوچھ رہا ہے کہ کسے ڈھونڈ رہا ہوں

ماضی کے بیاباں میں جو گم ہو گیا مجھ سےمیں حال کے جنگل میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں

گو پیش نظر ایک تماشہ ہے ولیکناے وجہ تماشہ میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں

تو ہاتھ جو آتا نہیں اس کا ہے سبب کیاشاید میں تجھے تجھ سے پرے ڈھونڈ رہا ہوں

چھینا تھا جسے صبح گریزاں کی چمک نےاس لمحے کو اب شام ڈھلے ڈھونڈ رہا ہوں

ہر اک سے جو کہتا ہوں کہیں عرشؔ کو ڈھونڈوکیوں اپنے بہانے میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں