12 اشعار

حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت

Hisar-e-dil se idhar bhi haqiqatein hain bahut

حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت

«حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہتترے بغیر بھی جینے کی صورتیں ہیں ہیں

ترے غرور کو ہم سے شکایتیں ہیں بجاہم آدمی ہیں ہمیں پست عادتیں ہیں بہت

جو تیری طرز جفا سے ہمارا حال ہوازباں پہ لائیں یہ اس میں قباحتیں ہیں بہت

اگر ہے باعث وحشت تجھے ہمارا جنوںہمیں بھی تیری ادا سے شکایتیں ہیں بہت

غلط کہ ملنے میں ہے فاصلے کا خوف تجھےکہ آج کل تو سفر میں سہولتیں ہیں بہت

مجھے تو چھوڑ گیا راہ میں تو ٹھیک ہواکہ پا شکستہ تھا میں اور مسافتیں ہیں بہت

زبان کھول کے اس بزم میں خراب ہوئےسوال ایک تھا لیکن وضاحتیں ہیں بہت

کسے سنیں تو کریں کس سے ہم گریز کہ یاںہر اک زباں پہ غموں کی حکایتیں ہیں بہت

ہمیں عذاب قیامت کا کوئی خوف نہیںکہ اس سے بڑھ کے جہاں میں قیامتیں ہیں بہت

ملے یہ لوگ تو کیوں اور لوگ کیوں نہ ملےجواب کوئی نہیں ہے بجھارتیں ہیں بہت

نہیں ہے آج کی تنہائیوں سے ہول ہمیںکہ دل پہ نقش جوانی کی صورتیں ہیں بہت

کس احتیاط سے اے عرشؔ اس کو صرف کریںمتاع عمر ہے کم اور چاہتیں ہیں بہت

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں