7 اشعار

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

Azab-e-bedili-e-jan mubtala na gaya

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

«عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیاجو سر پہ بار تھا اندیشۂ سزا نہ گیا

خموش ہم بھی نہیں تھے حضور یار مگرجو کہنا چاہتے تھے بس وہی کہا نہ گیا

پلٹ کے دیکھنے کی اب تو آرزو بھی نہیںتھی عاشقی ہمیں جب خوب، وہ زمانہ گیا

رہے مصر کہ اٹھا دیں وہ انجمن سے ہمیںہم اٹھنا چاہتے بھی تھے مگر اٹھا نہ گیا

ہمارے نام سے جب ذکر بے وفائی چلاجنوں میں بول پڑے ہم سے بھی رہا نہ گیا

ہمارا قصۂ غم بیچ میں وہ چھوڑ اٹھےانہی کی ضد تھی مگر ان ہی سے سنا نہ گیا

زمانے بھر نے کہا عرشؔ جو، خوشی سے سہاپر ایک لفظ جو اس نے کہا سہا نہ گیا

— عرش صدیقی