6 اشعار

ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیں

Hum ke khamosh hue ahl-e-bayañ dekhte haiñ

ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیں

«ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیںراز انداز تکلم سے عیاں دیکھتے ہیں

جان لیوا ہے فریب رہ گلزار طلبنشتر شوق قریب رگ جاں دیکھتے ہیں

ہے اسی گھر میں کہیں گوہر امید نہاںسوئے ویرانۂ دل بہر اماں دیکھتے ہیں

کیسے بنتا ہے لہو سرخی افسانۂ دلکیسے بنتا ہے قلم نوک سناں دیکھتے ہیں

آتش شوق کو رکھتے ہیں بہ ہر طور جواںخاک گلشن میں زر گل کے نشاں دیکھتے ہیں

خشمگیں آج وہ یوں ہیں کہ نہیں تاب سخنعرشؔ ہم آج ترا زور بیاں دیکھتے ہیں

— عرش صدیقی