11 اشعار

یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے

Yooñ na koi teri mahfil meiñ pareshan ho jaaye

یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے

«یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائےجیسے آواز صبا دشت میں حیراں ہو جائے

منتظر ہیں مری آہٹ کی بلائیں کتنیایک مشکل تو نہیں ہے کہ جو آساں ہو جائے

چاک دامن ہی زمانے سے نہیں ہوتا رفواور اگر سینہ کبھی چاک گریباں ہو جائے

پیچ در پیچ ہے یوں سلسلۂ زلف حیاتہاتھ لگتے ہی جو کچھ اور بھی پیچاں ہو جائے

داغ دل جلنے لگے بجھ گئی ہر شمع طربیوں ہے تو یوں ہی سہی گھر میں چراغاں ہو جائے

مجھ پہ قدغن ہے کہ میں بزم میں خاموش رہوںاور خموشی ہی جو رسوائی کا ساماں ہو جائے

نشتر شوق کے ہاتھوں گل صد برگ ہے دلخوب ہو اب جو یہ نذر دم‌ طوفاں ہو جائے

کیوں نہ پھر جلنے لگیں رشک سے ویرانہ و دشتشہر جب دل کی نگاہوں میں بیاباں ہو جائے

دل کو سودا ہے رہے رنگ شفق پیش نظرغم کو اک طور تو بہلانے کا ساماں ہو جائے

روشنی شام کی سن پائے نہ آوازۂ شبمہر زرتاب کا آفاق سے پیماں ہو جائے

بات اس آنکھ میں پوشیدہ ہے وہ عرشؔ کہ جولب سے نکلے تو مرے سینے پہ پیکاں ہو جائے

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں