8 اشعار

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

Baitha hoon waqf-e-maatam-e-hasti mita hua

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

«بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوازہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا

خود ان کے پاس جاؤں نہ ان کو بلاؤں پاسپایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا

اپنی زباں کو آج وہ تاثیر ہے نصیبجس کو خدائے حسن کہا وہ خدا ہوا

اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنیقاتل ہے میرے حجلۂ جاں میں چھپا ہوا

جاں ہے تو فکر عشرت بزم جہاں بھی ہےکب دل سے درد عالم امکاں جدا ہوا

ہیں جسم و جاں بہم یہ مگر کس کو ہے خبرکس کس جگہ سے دامن دل ہے سلا ہوا

ہے راہوار شوق پہ آسیب بے دلیرکھا ہے کب سے سامنے ساغر بھرا ہوا

حاصل ہے جس کو عرشؔ فضاؤں پہ اختیاروہ دل کے ساتھ کھیل رہا ہے تو کیا ہوا

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں