11 اشعار

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے

Gham ki garmi se dil pighalte rahe

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے

«غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہےتجربے آنسوؤں میں ڈھلتے رہے

ایک لمحے کو تم ملے تھے مگرعمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے

صبح کے ڈر سے آنکھ لگ نہ سکیرات بھر کروٹیں بدلتے رہے

زہر تھا زندگی کے کوزے میںجانتے تھے مگر نگلتے رہے

دل رہا سر خوشی سے بیگانہگرچہ ارماں بہت نکلتے رہے

اپنا عزم سفر نہ تھا اپناحکم ملتا رہا تو چلتے رہے

زندگی سر خوشی جنوں وحشتموت کے نام کیوں بدلتے رہے

ہو گئے جن پہ کارواں پامالسب انہی راستوں پہ چلتے رہے

دل ہی گر باعث ہلاکت تھارخ ہواؤں کے کیوں بدلتے رہے

ہو گئے خامشی سے ہم رخصتسارے احباب ہاتھ ملتے رہے

ہر خوشی عرشؔ وجہ درد بنیفرش شبنم پہ پاؤں جلتے رہے

— عرش صدیقی