6 اشعار

بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ

Bandha hai ahd junooñ chashm-e-aitibar ke saath

بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ

«بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھاسے کہو کہ جئے عزم استوار کے ساتھ

نہ ہو سکی کبھی توفیق درگزر کی اسےنہ چل سکے کبھی ہم خود بھی اقتدار کے ساتھ

فقیہ شہر سے کہنا کہ دل کشادہ رکھےملا ہے منصب اعلیٰ جو اختیار کے ساتھ

نشان‌ ناقۂ لیلےٰ پہنچ سے دور نہیںکبھی چلو تو سہی دو قدم غبار کے ساتھ

تمام عمر رہا وہ رہین منت غیراسے تو مرنا بھی آیا نہیں وقار کے ساتھ

ازل سے عرشؔ اک آوارگی نصیب میں ہےہوائے دشت کو نسبت نہیں قرار کے ساتھ

— عرش صدیقی