6 اشعار

دیدنی اب سفر زیست کا منظر ہوگا

Deedani ab safar-e-zeest ka manzar hoga

دیدنی اب سفر زیست کا منظر ہوگا

«دیدنی اب سفر زیست کا منظر ہوگا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

دیدنی اب سفر زیست کا منظر ہوگاجس نے لوٹا سر بازار وہ رہبر ہوگا

حال دل کہہ کے ہوئے اور گرفتار المہم نہ کہتے تھے کہ یوں درد فزوں تر ہوگا

جیتے جی ہم سے کبھی حرف وفا کہہ ڈالوپھر یہ ہوگا بھی جو احسان تو کس پر ہوگا

تو مری جرأت گفتار پہ حیراں کیوں ہےیہ تماشا تری سرکار میں اکثر ہوگا

ان کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے تارے دیکھےاب تو ناصح بھی پشیمان برابر ہوگا

ہم بھی اب عرشؔ نیا باب وفا کھولیں گےشہپر شوق‌ مہ و مہر کا ہم سر ہوگا

— عرش صدیقی