8 اشعار

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ

Phir usī shahr kā fasāna chheṛ

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ

«پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑمطربہ طرز عاشقانہ چھیڑ

ساز دل سے اٹھا تھا جو اک بارپھر وہی راگ والہانہ چھیڑ

گھر ہے تاریک یورش غم سےآج اک آتشیں ترانہ چھیڑ

پھر جہاں دل کشی سے ہے محرومزلف ہستی کو مثل شانہ چھیڑ

بزم خوف فنا سے ہے بے دمکچھ بہ انداز جاودانہ چھیڑ

آج ہر شے سے بد گماں ہیں ہممت ہمیں اے غم زمانہ چھیڑ

اے غم یار ہم ہیں خاکستراور مت اے رفیق خانہ چھیڑ

عرشؔ تھی ہر سکوں کی جو رہزناس قیامت کا پھر فسانہ چھیڑ

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں