6 اشعار

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے

Dil ke aaraish-e-alam ka tamasha dekhe

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے

«دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھےگر کبھی خود پہ نظر جائے تو صحرا دیکھے

آنکھ وہ آنکھ جو ہر قطرے میں دریا دیکھےتو مگر سامنے آ جائے تو پھر کیا دیکھے

خواب میں ہو تو یہ دل دیکھے تری دید کے خوابخواب سے جاگے تو اک خواب سی دنیا دیکھے

جو سمجھتا ہے کہ کھل جاتا ہے فریاد سے بختسوئے افلاک کبھی ہاتھ وہ پھیلا دیکھے

ابتلا میں ہیں سبھی راہ رو منزل شوقکس کو فرصت کہ مرے پاؤں کا کانٹا دیکھے

عرشؔ اگر لفظ و معانی کے ہو تم پیغمبرایک تصویر بنا جاؤ کہ دنیا دیکھے

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں