8 اشعار

مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے

Maanoos ho gaye hain andhe puraane ghar se

مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے

«مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سےباہر نہیں نکلتے ہم روشنی کے ڈر سے

سائے کی آرزو میں لپٹے ہوئے ہیں ہم سبسنسان راستے میں آتش زدہ شجر سے

ہم خاک ہو کے بھی ہر موج ہوا سے الجھےیعنی تری وفا کا سودا گیا نہ سر سے

کیا کیا نہ گل کھلیں گے کیا کیا نہ جشن ہوں گےاس کشت آرزو میں بادل کبھی جو برسے

تیرے حضور تھے ہم اپنی نظر سے اوجھلخود کو بھی آج دیکھا گر کر تری نظر سے

اب تک ہمیں گماں ہے صحرا پہ گلستاں کااک بار بے ارادہ گزرا تھا وہ ادھر سے

کیوں مطمئن کھڑے ہو آسودگان ساحلدریا کا زور دیکھو گہرائی میں اتر کے

دل کا سکوں لٹا تو سر کیوں رہا سلامتکیوں زندہ لوٹ آئے ہم عرشؔ اس کے در سے

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں