11 اشعار

دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو

Darwaza tere shehar ka waa chahiye mujh ko

دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو

«دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کوجینا ہے مجھے تازہ ہوا چاہئے مجھ کو

آزار بھی تھے سب سے زیادہ مری جاں پرالطاف بھی اوروں سے سوا چاہئے مجھ کو

وہ گرم ہوائیں ہیں کہ کھلتی نہیں آنکھیںصحرا میں ہوں بادل کی ردا چاہئے مجھ کو

لب سی کے مرے تو نے دیے فیصلے سارےاک بار تو بے درد سنا چاہئے مجھ کو

سب ختم ہوئے چاہ کے اور خبط کے قصےاب پوچھنے آئے ہو کہ کیا چاہئے مجھ کو

ہاں چھوٹا مرے ہاتھ سے اقرار کا دامنہاں جرم ضعیفی کی سزا چاہئے مجھ کو

محبوس ہے گنبد میں کبوتر مری جاں کااڑنے کو فلک بوس فضا چاہئے مجھ کو

سمتوں کے طلسمات میں گم ہے مری تائیدقبلہ تو ہے اک قبلہ نما چاہئے مجھ کو

میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتااک راستہ ان سب سے جدا چاہئے مجھ کو

وہ شور تھا محفل میں کہ چلا اٹھا واعظؔاک جام مئے ہوش ربا چاہئے مجھ کو

تقصیر نہیں عرشؔ کوئی سامنے پھر بھیجیتا ہوں تو جینے کی سزا چاہئے مجھ کو

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں