13 اشعار

کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں

Khuli faza ka ubharta nahin samaan ghar mein

کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں

«کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میںنہیں بناتے پرندے اب آشیاں گھر میں

جو چل رہی تھیں تو دہکا کئے در و دیواررکیں ہوائیں تو بھرنے لگا دھواں گھر میں

سجے ہیں فرش لہو سے تو در عذابوں سےاگی ہیں سخت زمینوں کی کھیتیاں گھر میں

سکوں کی شکل ہو پیدا کوئی تو کیسے ہویقیں ہے سرحد جاں سے پرے گماں گھر میں

عجیب طور سے بدلے ہیں موسموں نے چلنبہار دشت میں رہتی ہے اور خزاں گھر میں

الٹ گئے ہیں قرابت کے ضابطے سارےصبائیں قبر پہ چلتی ہیں آندھیاں گھر میں

اسے ہی مان لیا ہم نے بخت کا ماویٰبجا رہا تھا جو آسیب سیٹیاں گھر میں

نہیں وہ آنکھ کہ ہم دشمنوں کو پہچانیںدبائے بیٹھے ہیں اپنوں کی ہڈیاں گھر میں

عبادتوں نے بھی ڈھونڈے ہیں اب نئے مسکننماز ہونے لگی دشت میں اذاں گھر میں

اٹھا کے سر کبھی نکلے تو یہ نہ یاد رہاکہ چھوڑ آئے ہیں آبا کی پگڑیاں گھر میں

ملا ہے باز عدالت کا در پہ کیا کیجےپڑی ہے خوف سے سہمی ہوئی زباں گھر میں

ثبوت بے گہنی رہ گیا خیالوں میںرکھا صفائی کا یاروں نے ہر بیاں گھر میں

ہے عرشؔ آج تو فطرت بھی ہمرکاب قضاگھٹائیں اوج فلک پر ہیں بجلیاں گھر میں

— عرش صدیقی