5 اشعار

ہم کبھی چشم زمانہ میں نہ پنہاں ہوں گے

Hum kabhi chashm-e-zamana mein na pinhaan honge

ہم کبھی چشم زمانہ میں نہ پنہاں ہوں گے

«ہم کبھی چشم زمانہ میں نہ پنہاں ہوں گے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

ہم کبھی چشم زمانہ میں نہ پنہاں ہوں گےہم ہر اک دور میں ہر دل میں نمایاں ہوں گے

درد بن کر نفس جاں میں سما جائیں گےسوز بن کر حرم دل میں فروزاں ہوں گے

ہم خزاں ہو کے بھی ہیں رونق بزم عالمہم نہ ہوں گے تو کہاں جشن بہاراں ہوں گے

ہم جلیں گے کہ ترے نام کی لو روشن ہوہم بہ ہر رنگ تری زیست کا ساماں ہوں گے

سوزش درد میں ہے عرشؔ قیامت پنہاںوہ بھی کیا ہوں گے جو اس درد کا درماں ہوں گے

— عرش صدیقی